دور اندیشی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عقل مندی، ہوشیاری، انجام پر نظر رکھنا۔ "ایک تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنھوں نے شاہد صاحب سے دوستی "دور اندیشی" کی بنیاد پر چاہی۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٦٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'دور' کے ساتھ 'اندیشیدن' مصدر سے فعل امر 'اندیش' لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "مکمل مجموعۂ لیکچر و اسپیچز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل مندی، ہوشیاری، انجام پر نظر رکھنا۔ "ایک تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنھوں نے شاہد صاحب سے دوستی "دور اندیشی" کی بنیاد پر چاہی۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٦٣ )

جنس: مؤنث